[1] Bihar Vol-31 Page-120...
[1] Bihar Vol-31 Page-120, Vol-95 Page-351, Al Iqbal Page 597, Misbah Al Kafami Page 514, Al-Muqtasar Page 44 [2] Fragrance, scent [3] Extremely pious.
بسم اللہ الرحمن الرحیم سید علی ابن طاؤ س نے اپنی کتاب زواید الفوائد میں کہا کہ ابن ابی العلاء ھمدانی الواسطی اور یحییٰ بن محمد حویج بغدادی نے روایت کی ہے کہ ہما رے درمیان ابن خطا ب کے با رے میں بحث و مبا حثہ ہوا تو اس کا معاملہ ہم پر مشتبہ ہو گیا پس ہم دونوں ایک ساتھ حضرت ابو الحسن عسکری علیہ السلام کے صحابی احمد بن اسحاق قمی کے پاس قم شہر گئے ۔پس ہم نے اسکا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک عراقی بچی باہر ہمارے پاس آئی تو ہم نے اس سے اُس کے بارے میں پوچھا تو اس بچی نے کہا ۔وہ اپنی عید میں مشغول ہیں کیونکہ یہ عید کا دن ہے ، میں نے کہا سبحان اللہ !شیعوں کے لیے تو فقط چار عیدیں ہیں: (1)عیدا لفطر (2)عید قربان (3)عید غدیر (4)عید جمعۃ المبارک اس بچی نے کہا :احمد بنااسحاق اپنے آقا ابو الحسن علی بن محمد عسکری علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ یہ دن عید کا دن ہے۔اور یہ اہل بیت علیہم السلام کے موالیوں کے نزدیک سب عیدوں سے افضل عید ہے۔ہم نے کہا،تم ان سے ہمارے بارے میں اجازت طلب کرو اور انہیں ہمارے بارے میں بتاؤ۔بچی اس کے پاس گئی اور اسے ہمارے بارے میں بتایا تو وہ ہما رے پا س تشریف لائے جبکہ انہوں نے چادر اوڑھ رکھی تھی کہ جو خوشبو سے معطر تھی اور وہ اپنے چہرے کوصاف کر رہے تھے۔پس ہم نے انکے سامنے اسکا کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا:کیا تم اس کے بارے میں نہیں جانتے ؟میں نے عید کا غسل کیا ہے ۔ہم نے کہا :ہمیں پہلے یہ بتائیے کہ کیا یہ عید کا دن ہے؟انہوں نے کہا ۔جی ہاں ۔یہ نو ربیع الاول کا دن ہے۔پس وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے ااور ہمیں بٹھا یا پھر کہا۔جیسے تم دونوں میر ے پاس آئے ہو اسی طرح میں بھی اپنے آقاومولا ابو الحسن علیہ السلام کے پاس سرمن رائے گیا اور آپ علیہ السلام کی اجازت چاہی تو آپ علیہ السلام نے مجھے اجا زت عطا فرمائی تو اِس جیسے دن ہی میں آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ نو ربیع الاول کا دن تھاپس میں نے دیکھا کہ میرے آقا ومولا علیہ السلام اپنے سب نوکروں کو ہدایت فرما رہے تھے کہ وہ جتنا ممکن ہو نیا لباس پہنیں اور آ پ علیہ السلام کے سامنے انگھیٹی تھی کہ جس میں آپ علیہ السلام عود کی خوشبو کو سلگا رہے تھے ۔میں نے آ پ علیہ السلام سے عرض کی۔ہمارے آباؤاجداد اور اصحاب آپ علیہ السلام پر قربان ہوں اے رسول اللہ ؐ کے فرزند !کیا اس دن اہل بیت علیھم السلام کے گھر کو ئی نئی خوشی آئی ہے توآپ علیہ السلام نے فرمایا ہا ں اس نو ربیع الاول کے دن سے بڑ ھ کر زیادہ حرمت والا دن کونسا ہے ۔مجھے میرے با با بزرگوار علیہ السلام نے فرمایا کہ حذیفہ بن یما ن اِس جیسے دن ہی میرے جد بزرگوار رسول ؐ کے پا س حاضر ہوا۔تو حذیفہ نے کہا میں نے دیکھا کہ امیرالمومینن علیہ السلام اپنے دونوں فرزندوں علیھم السلام سمیت رسولؐ کے ساتھ کھانا تناول فر ما رہے تھے ۔اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان سب علیھم السلام کے سامنے مسکر ا رہے تھے ۔اور آپ ؐ اپنے فرزندوں حسن و حسین علیھم السلام کو فر ما رہے تھے ،خوش ہو کر تناول کر و کہ اس دن کی برکت و سعادت آپ دونوں علیھم السلام کے لیے مخصوص ہے ،کیونکہ یہ وہ دن ہے کی جس میں اللہ عزوجل آپ دونوں علیھم السلام اورآپ ؑ کے جد ؐ کے دشمن کوہلاک کر ے گا۔اور یہی وہ دن ہے کی جب اللہ عزوجل آپ ؑ کے شیعوں اور محبوں کے اعمال کو قبول فر ماے گا اور یہ وہ دن ہے کہ جس پر اللہ عزوجل کا قو ل صادق آتا ہے :پس وہ انکے گھر ہیں کہ جو گرے ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے ناانصافی کی۔ (27:52(اوریہ وہ دن ہے کہ جس میں اہل بیت علیھم السلام کا فرعون اور ان پر ظلم کرنے والا اور ان کے حق کو غصب کرنے والا برباد ہو گا اور یہ وہ دن ہے کی جب اللہ عزوجل کے سامنے اسکے اعمال پیش ہوں گئے پس ہم نے اسے بابرکت قرار دیا؛حذیفہ نے کہا ،میں نے عرض کی ۔یا رسولؐ اللہ کیا وہ آپ ؐ کی امت اور اصحاب میں سے ہے کہ جو ان محارم ؑ کی ہتک کر ے گا ؟ آپ ؐ نے فر مایا ،ہاں اے حذیفہ !منافقین کا سردار اہل بیت علیھم السلام کو رسوا کرنے کی کوشش کر ے گا اور میری امت کو گمراہ کرے گا اور اپنے کندھے پر درہ لیے پھرے گا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکائے گا ، اللہ عزوجل کی کتا ب میں تحریف کرے گا اور میر ی سنت میں تبدیلی کرے گا اور میری اولاد کی وراثت پر قبضہ کرے گا اور خود کو اما م مقرر کرے گا اور میر ے بعداپنے امام علیہ السلام کے خلاف بغاوت کرے گا او ر لوگو ں کے اموال کو بغیر حلال طریقے کے کھائے گا اور اسے اللہ عزوجل کی اطاعت کے علاوہ راستے پر خرچ کرے گا وہ میر ی ؐاور میرے بھائی و وزیر علی علیہ السلام کی تکذیب کرے گا وہ میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہاکو اس کے حق سے محروم کرے گا ۔پس میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہااُس کے خلاف اللہ عزوجل کے حضور بددعا کرے گی تو آپ ؑ کی دعا اس جیسے دن ہی قبول ہوگی حذیفہ نے کہا ۔میں نے عرض کی۔یا رسول اللہ ؐ اپنے رب تعالیٰ سے دعاکیجیے تاکہ وہ اسے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں ہی ہلاک کر دے ۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فر مایا ۔اے حذیفہ مجھے پسند نہیں کہ میں اللہ عزوجل کی قضا ء سے تجاوز کروں جبکہ اسے اس کا پہلے ہی علم ہے بلکہ میں نے اللہ عزوجل سے سوال کیا کہ اس دن کو کہ جس میں وہ اس کو ہلاک کرے گا تما م ایا م پر فضلیت بخشے تاکہ یہ سنت بن جائے کہ جس پر مجھ سے محبت کرنے والا اور میری اہل بیت علیھم السلام کے شیعہ اور محب عمل کریں ۔تو اللہ عزوجل نےمجھ پر وحی نازل فرمائی اور فرمایا :اے محمدؐ میرے علم میں پہلے سے ہے کہ تمھیں ؐاور تمہاری اہل بیت علیھم السلام کو دنیا کے امتحان اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گااوار میر ے بندوں میں سے منافقین اور غاصبین کے ظلم کا سامناکرنا پڑے گا۔تم جس کو انؑ کے بارے میں نصیحت کرو گے وہ تم سے خیانت کریں گے اور جن کو تم ان ؑ کے حق میں اُکساؤ گے وہ تم سے دھوکہ کریں گے تم انہیں ان کے لیے خالص بنا نا چاہو گے وہ تم سے پہلو تہی کریں گے تم انہیں راضی کرنے کاکہو گے وہ تم کو جھٹلایں گے مجھے میر ی عزت و جلال ،قوت و بادشاہت کی قسم تیرے بعد جس کسی نے بھی تیرے وصی علی علیہ السلام کا حق غصب کیا میں اسے ابلیس کے ساتھ جہنم کے اس کنویں میں رکھوں گا کہ جہاں سے نبی آدم علیہ السلام اسکو دیکھ کر اس پر لعنت کرے گا ۔اور میں اس منافق کو میدان محشر میں انبیاء علیھم اسلام کے فرعونوں اور دین کے دشمنوں کی طر ح باعث عبر ت بناؤں گا اور میں اُس کو اُسکے سب دوستوں کو اور تما م ظالموں کو اور منافقین کو دوزخیوں میں محشور کروں گا ۔وہ پشیمان اور ذلیل ہوں گے اور میں انہیں ہمیشہ کے لیے گمراہ رکھوں گا۔ اے محمد ؐ تمھارا رفیق اور تمہا را وصی ؑ تمہارے جیسا ہو گا ،اسے مصیبتیں آئیں گی اور اس کے فرعون اور غاصب کہ جو اس پر پہل کرے گا اور میر ے کلام میں تبدیلی کرے گا اور میر ا مشرک بنے گا اور لوگوں کو میرے راستے سے بھٹکائے گا اور خود کو میری امت کا بچھڑا قرار دے گا (قابل عبادت)اور کفرکر ے گا،میں اپنے عرش پر اپنے سات آسمانوں کے ملائکہ کو اور تمھارے شیعوں اور محبوں کو حکم دوں گا کہ وہ اس دن عید منائیں ،میں اس دن اسے ہلاک کروں گا اور میں انہیں حکم دوں گا کہ میر ی کرامت کی کرسی بیت المعمور کے سامنے رکھیں اور میر ی ثنا ء کریں اور اولاد آدم علیہ اسلام میں سے تیرے شیعوں اور تیرے محبوں کے لیے استغفار کریں۔ اے محمدؐ میں کرام الکاتبین کو حکم دوں گا کہ وہ اس دن مخلوق سے قلم اُٹھا لیں اور تیری ؐاور تیرے وصی ؑ کی عظمت کے سبب انکی خطاؤ ں میں سے کچھ بھی نہ لکھیں اے محمدؐ !میں نے یہ دن تمہارے لیے اور تمھارے اہلبیت علیھم السلام کے لیے عید قرار دیا ہے اور ان(اہل بیتؑ )کے مومینن پیروکاروں اور شیعوں کے لیے بھی اور میں نے خود کواپنی عزت و جلال اور بلند مر تبہ کی قسم دی ہے جو بھی اس دن کو عید منائے گا اس کے لیے بے انتہا خوشی منانے والوں جیسا ثواب شمار کروں گا اورمیں اس کے قرابت داروں میں اس کی شفاعت کو قبول کروں گااور میں اس کے مال میں اضافہ کروں گا کہ وہ اپنے آپ اور عیا ل پردل کھول کر خرچ کرے اور میں ہر سال اس دن تمہارے شیعوں اور محبوں اور موالیوں میں سے ہزاروں کو جہنم سے آزاد کروں گا اور میں انکی کوشش کا مشکور ہوں گا اور ان کے گناہ معاف کروں گا اور انکے اعمال قبول کروں گا۔ حذیفہ نے کہا ۔پھر رسول ؐاللہ کھڑے ہوے اور بی بی ام سلمہ سلام اللہ علیھا کے گھر تشریف لے گئے اور میں آ پ ؐ کے پاس سے واپس آگیا مجھے ثانی(ابن خطاب)کے امر میں کوئی شک نہ تھا یہاں تک کہ میں نے رسول ؐاللہ کی شہادت کی بعد دیکھا کہ اس نے شر انگیزی کی اور کفر پر پلٹ گیا اور دین سے پھر گیا (مرتد ہو گیا)اور بادشاہت کے لیے کوشش کی قرآن میں تحریف کی ،وصی ؑ کے گھر کو جلایا سنت میں بدعت ایجاد کر کے اسے تبدیل کر ڈالا قرآن اور سنت کی نقل میں تبدیلی کی ۔امیرالمومنین علیہ السلام کی گواہی کو قبول نہ کیا حضرت فاطمہؑ بنت رسولؐ اللہ کو جھٹلایا اور آپ سلام اللہ علیھاسے فدک کو غصب کیا اور یہودو نصاری اورمجوسیوں کو راضی کیا،حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک کو ناراض کیا اور اسے راضی نہ کیا اور تمام سنتوں کو تبدیل کر ڈالا اور امیر المومینن علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوا اور ظلم کا اظہار کیااور اللہ عزوجل کے حلال کو حرام کیا اور اللہ عزوجل کے حرام کو حلال کیا اور لوگوں کے لیے فقط اونٹوں کی کھالوں کو چھوڑا اور زکیہ(بی بی فاطمہ)سلام اللہ علیھا کے چہرے پر طمانچہ مارا اور رسول اللہ ؐ کے منبر پر زیادتی سے چڑھ بیٹھا اور امیرالمومینن علی علیہ السلام کے خلاف بہتان تراشی کی اور آپ علیہ السلام سے دشمنی رکھی آپ علیہ السلام کی رائے کا مذاق اُڑایا۔ حذیفہ نے کہا۔اللہ عزوجل نے اس منا فق کے خلاف میرے مولا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دُعا قبول فر مائی اور۹ ربیع الاول کو اس کے قتل کا اجراء اس کے قاتل کے ہاتھوں فرمایا اللہ عزوجل اس کے قاتل پر رحمت فرمائے۔ حذیفہ نے کہا :جب وہ منافق قتل ہوا تو میں امیر المومینن علیہ السلام کی خدمت میں حا ضر ہو ا تاکہ آپ علیہ السلام کو اس کے قتل اور اس کی اس رسوائی اور انتقام کے مقام تک رسائی کی مبارک باد دوں تو امیر المومینن علیہ السلام نے فرمایا۔اے حذیفہ اس دن کو یا د کروہ جس دن تو رسول اللہ ؐ کے پا س حاضر ہو اتھا اور میں آپ ؐ کے بیٹے ؑ آپؐ کے ساتھ کھاناتناول کر رہے تھے تو آپؐ نے اس دن کی فضیلت کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کیا تو اس دن یعنی 9 ربیع الاول ہی آپ ؐ کے حضور حاضر ہوا تھا؟پس میں نے عرض کی ۔جی ہا ں اے برادر رسول اللہ ؐ۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:اللہ کی قسم !وہ یہی دن ہے کہ جس دن کا اللہ عزوجل نے اولاد رسولؐ کو علم دیا تھا اور میں اس دن کے 72نام جانتاہوں۔ حذیفہ نے کہا :میں کے عرض کی ،اے امیر المومینن علیہ السلام میں چاہتا ہوں کہ آپ ؑ مجھے ربیع الاول کے اس نویں9دن کے نام سنائیے۔آپ ؑ نے فرمایایہ زہرا ؑ کا دن ہے، یہ آرام کا دن ہے۔یہ غم وکرب کی رخصتی کا دن ہے۔یہ غدیر ثانی ہے۔یہ گناہوں کے خاتمے کا دن ہے ۔یہ تحائف کا دن ہے۔یہ قلم کے اُٹھ جانے کا دن ہے ۔یہ ہدایت کا دن ہے۔یہ عافیت کا دن ہے۔یہ برکت کا دن ہے یہ انتقام کا دن ہے یہ اللہ عزوجل کی بڑی عید ہے یہ وہ دن ہے کی جب دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔یہ بڑی عظمت والا دن ہے یہ سرپرستی اورشرط کا دن ہے ۔یہ غموں کے ڈھل جانے کا دن ہے ۔یہ دن ظالموں کے لیے پشیمانی ہے اور یہ دن شیعوں کی خوشی کا دن ہے اس دن میں پر یشانیاں زائل ہوتی ہیں ۔یہ فتح کا دن ہے ۔یہ غنیمت کا دن ہے۔یہ قدرت کا دن ہے۔یہ مصافحہ کا دن ہے یہ شیعوں کی خوشی کا دن ہے یہ ترویہ کا دن ہے ۔یہ توبہ کا دن ہے ۔یہ بڑی پاکیزگی والا دن ہے یہ عید فطر ثانی کا دن ہے یہ اللہ عزوجل کے راستے کا دن ہے یہ مہربانی سے گزارنے والا دن ہے یہ رضا کا دن ہے یہ اہل بیت علیھم السلام کی عید کا دن ہے یہ محشور ہونے کا دن ہے یہ وہ دن ہے جب ظالم اپنے ہاتھوں کو کا ٹے گا ۔یہ گمراہی کے خاتمے کا دن ہے۔یہ مرادوں کا دن ہے۔یہ گواہی کا دن ہے ۔یہ مومینن سے عفوودرگزر کا دن ہے ۔یہ پاکیزہ ہونے کا دن ہے ۔یہ منافق کی بادشاہی کے خاتمے کا دن ہے یہ راہ راست کے طرف راہنمائی کا دن ہے۔یہ وہ دن ہے جب مومن خوش ہوتے ہیں یہ مباہلہ کا دن ہے یہ فخر ومباہات کا دن ہے یہ اعمال کی قبولیت کا دن ہے ۔یہ عطیات کا دن ہے یہ حق مہر دینے کا دن ہے یہ شکر کرنے کا دن ہے یہ مظلوم کی نصرت کا دن ہے یہ زیارت کا دن ہے یہ محبت کا دن ہے ۔یہ اِترانے کا دن ہے۔یہ وصولی کا دن ہے یہ برکت کا دن ہے یہ بدعت سے پردہ اُ ٹھانے کا دن ہے یہ بڑوں میں زہد کا دن ہے یہ منادی کا دن ہے یہ وعظ کا دن ہے یہ عبادت کا دن ہے ۔یہ اسلام کا دن ہے۔یہ دشمن پر قہر نازل ہونے کا دن ہے، یہ پاکیزگی کا دن ہے، یہ قربانی کا دن ہے،یہ بقر کا دن ہے۔ حذیفہ نے کہا ۔پس میں امیر المومینن علیہ السلام کی خدمت سے اُٹھا اور میں نے اند ر ہی اندر خود کو کہا ۔اگر چہ میں کوئی نیکی کے کام نہ کر سکا ہوں کہ جس کے ثواب کی امید رکھوں ماسوائے اس دن کی محبت کے، تو بھی میں نے مراد پالی ۔ محمد بن ابی العلا ء ھمدانی اور یحییٰ بن جریح نے کہا۔پس ہم میں سے ہر ایک نے اُٹھ کر احمد بن اسحاق کے سر کا بوسہ دیا اور ہم نے کہا :تمام تعریفیں اس اللہ عزوجل کے لیے کہ جس نے ہمیں موت نہیں دی یہاں تک کہ ہم نے اس مبارک دن کی فضلیت کو پالیا ۔پس ہم اس سے اُٹھ کر چل دیے ۔اس دن ہماری عید ہے پس یہ شیعوں کی عید ہے ۔ Download PDF More Articles from this Category: Articles , Duwa , Eid Tags: #Eid , #Eid e Shuja , 9thofRabbiulAwwal Post navigation Previous Previous post: Eid-e-Ghadeer Next Next post: Epidemic – Protection and Cure Details Sidebar ABOUT US HubeAli asws is a charity organisation committed to propagate the true teachings of Ahl Al-Bayt-asws.
✦ ✦ ✦