A Humble Request...
A Humble Request: Please stop calling your fellow Momineen being part of a conspiracy ‘Sazish’ who believe that Masoom -asws come to this world through ‘Zahoor/Nazool’ if you don’t understand or don’t want to have the same beliefs as us, we still love you as a ‘Momin’ and don’t denounce your intentions – please respect ours!
You may continue with what you believe but stop spreading the ‘Qayyas’ based propaganda against your fellow shias by declaring them the proponent of ‘Sazish’ (Fitna) – May Mola-ajfj guide all of us, Ameen suma Ameen.
Appendix: The ‘Sazish’ Urdu Article (Pasted as received): پاکستان اور انڈیا میں جان بوجھ کر آئمہ معصومین علیہم السلام کی ولادت سے انکار کرنے اور شیعوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لئے سوچی سمجھی سازش کے تحت ولادت با سعادت اور جشن میلاد کے بجائے نزول اور ظہور جیسے خودساخته اور خلاف دیں کلمات استعمال کرتے ہیں، لہذا ہمیں *شیعه اثناءعشری* هونے کا ثبوت دیتے هوۓ ایسی سازشوں کا حصہ نہیں بننا چاہئے .مزید معلومات کے لئے مندرجہ ذیل تحریر کو ضرور پڑھیں.
( *معصومین ع کی ولادت باسعادت بمقابله نزول و ظہور کے بارے میں ایک تحقیقی تحریر* ) کچھ سالوں سے ایک خاص طبقه شیعوں میں ایک لفظی بحث چھیڑے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ معصوم کی ولادت نھیں بلکہ نزول اور ظھور ہوتا ہے ولادت تو ہم انسانوں کی ہوتی ہے، آئییے دیکھتے ہیں کہ کیا انکا موقف درست ہے یا نھیں ؟ سب سے پہلے تو ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان لوگوں کا ظہور یا نزول سے کیا مطلب ہے؟ یہ لوگ کہتے ہیں کہ معصومین(ع) کی ولادت نہیں ہوسکتی اور نہ ہی وہ اپنے اجداد(والد، دادا…) کے اصلاب میں ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنی امّہات (ماؤں) کے شکموں میں ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی ولادت ہوتی ہے۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ معصومین(ع) آسمان سے Directبراه راست نازل ہوتے ہیں اور شکموں اور ارحام میں نہیں ہوتے۔ ان کے عقیدے کی دلیل میں کوئی ایک بهی حدیث نہیں ہے، البتہ قرآن کی ایک آیت میں جہاں نور کے نزول کی بات کی گئی ہے وہاں وہ نور سے مراد آئمہ(ع) لیتے ہیں جبکہ قرآن کے حکم کے مطابق یہاں نور سے مراد قرآن پاک ہے جو رسول اللہ(ص) کے ساتھ ہدایت کے لئے نازل کیا گیا۔ اور اگر آئمہ(ع) مراد بھی ہیں تو اس اعتبار سے کہ وہ قرآن کی جیتی جاگتی تفسیر (قرآن ناطق اور عملی قرآن) ہیں.
احادیث کی طرف جانے سے پہلے ہم اس نظریہ کے نقصانات کی طرف اشارہ کرینگے، (1) ﺟﺐ ﻭﻻﺩﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﺎﺭ کرنا ﮨﻮﮔﺎ. )کیونکه ظاهر هے جب کوئ پیدا هی نهیں هوا تو قتل بهی نہیں هوا هوگا(.