(2) ظہور و نزول کے قائل افراد کو زیارت وارثہ کا انکار کرنا...
(2) ظہور و نزول کے قائل افراد کو زیارت وارثہ کا انکار کرنا پڑے گا کیونکہ زیارت وارثہ میں امام معصوم ع نے فرمایا -اشھد انک کنت نورا فی الاصلاب الشامخۃ والارحام المطھرۃ *میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بلند ترین اصلاب اور پاکیزہ ترین ارحام میں نور الہی بن کر رہے* )امام معصوم ع تو کسی چیز کے هونے کی گواهی دیں اور یه لوگ صاف انکار کریں، تو کیا کسی شیعه کو یه نظریه قبول هوگا ؟ هرگز نهیں(.یا اسی طرح امام معصوم ع فرماتے هیں که اشھد ان الائمۃ من ولدک کلمۃ التقوی *اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپکی اولاد کے امام سب کلمۂ تقوی ہیں* یہ بات یاد رھے کہ *صلب و رحم اور اولاد کا تعلق ولادت* سے ہوتا ھے نا که نزول و ظهور سے، اور جہاں ظہور و نزول ہو وھاں ان الفاظ کا.
یعنی اصلاب و ارحام کے استعمال هرگز نھیں کیےجاتے. لہذا اس *باطل اور فاسد عقیدے* کو ماننے کے لئے امام معصوم ع بیان کرده *زیارت وارثہ* کا انکار کرنا ضروری ہوجائے گا.
(3) ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﺯﯾﺎﺭﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻌﺎﺭﻑ ایمان ﻭ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﺳﮯ بھرﺮ ﭘﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ دشمنان محمد وآل محمد ع پر *لعنت* کی گئی ﮨﮯ ﺍﻧ تمام ﺴﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ گا اسلئے کہ جب کسی نے شہید ہی نھیں کیا ہے تو لعنت کس بات کی ؟؟؟ (4) ﺟﺐ ﺍﺋﻤﮧ معصومین ع ﭘﯿﺪﺍ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ *ﻧﺴﻞ ﺳﺎﺩﺍﺕ* کہاں سے وجود میں آگئی ؟؟ کیا تمام سادات کا بھی نزول و ظہور ہوا ہے ؟ یا یہ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺎﻭﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮍھی ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ لذا اس عقیدے کے ماننے والے کو ﻧﺴﻞ ﺳﺎﺩﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ کرنا پڑے گا.
(5) نبئ اکرم ص، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽؑ، ﺣﻀﺮﺕ فاطمہ زھرا س ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ عج ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ جو ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ وارد ہوئی ہیں، ﮨﯿﮟ ﮐﮧ آپ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺳﮯ ﺍنکے ﺑﻄﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ انکا دل بہلایا کرتے تهے سب کی سب جهوٹی هوجائیں گی،ان سب روایات سے انکار کرنا پڑے گا. (6),جو معصوم کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں انکو *عید میلاد النبی ص* اور *جشن مولود کعبه* کا انکار کرنا پڑے گا.
دنیا کے تمام مسلمان خواہ شیعہ ہوں یا اھلسنت تمام فرقے نبی کی ولادت کو عید میلاد النبی کے نام سے یاد کرتے ہیں کسی نے بھی آپکی ولادت کو نزول یا ظہور سے کبهی بهی یاد نھیں کیا ھے. لفظ مولید کا مصدر ,ولد, ایک عربی لفظ ہے۔ جس کے معنی تولید، یا جنم دینا، یا وارث کے ہیں۔ عصری دور میں مولد یا مولود یا میلاد کا لفظ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کے لئے کثرت سے استعمال کیا جاتا هے.