*عید المولِد النبوی ص*یعنی *عید ولادتِ حضرت محمد صلی اللہ...
*عید المولِد النبوی ص*یعنی *عید ولادتِ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم* (7) امیرالمؤمنین امام علی ع کی ایک ایسی فضیلت جسمیں ان کا کوئی ثانی نھیں یعنی امام علی ع کا کعبه میں پیدا هونا، امام علی کے لقب *مولود کعبہ* سے انکار کرنا ہوگا، جبکہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ھے کہ جناب فاطمہ بنت اسد نے کعبہ کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا، وبهذا المولود الذي في أحشائي الذي يكلّمني ويؤنسني بحديثه، وأنا موقنة أنّه إحدى آياتك ودلائلك لمّا يسّرت عليَّ ولادتي، *اور تجھے اس مولود کا واسطہ کہ جو میرے بطن میں ھے جو مجھ سے باتیں کرتا ھے میری تنہائی میں مجھ سے گفتگو کرتا ہے مجھے یقین ھے یہ تیری نشانیوں میں سے ایک نشانی اور دلائل میں سے ایک دلیل ھے اسنے مجھ پر ولادت کو آسان بنادیا ہے* ( الأمالي للطوسي: 706) اسکے علاوہ تمام شعراء عرب و عجم نے امام کی آمد کو *ولادت* سے ہی یاد فرمایا ہے جیساکہ سید حمیری رح نے کہا ولدته في حرم الإله وأمنه والبيت حيث فناؤه والمسجد بيضاء طاهرة الثياب كريمة طابت وطاب وليدها والمولد شیخ حسین نجفی قدس سرہ نے فرمایا جعل الله بيته لعلي مولداً يا له عُلا لا يضاهى لم يشاركه في الولادة فيه سيّد الرسل لا ولا أنبياها (مناقب آل أبي طالب: 23.
الغدير 6/29.) (8) ﺍﮔﺮ ﻭﻻﺩﺕ ﮐﻮ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﮯ ﻟﻔﻆ ﺳﮯ ﺑﺪﻝ ﺩینے کی ناکام کوشش کی ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﯾﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ مؤمنین ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ *ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ عج* ﮐے ﻇﮩﻮﺭ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ اور چاهت هے وه بالکل ختم هوجاۓ گی . *امام زمان عج کی ولادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ھ کو ھوچکی هے*، آپ کے ظھور کے بارے میں بے شمار احادیث موجود ہیں کہ آپکا ظھور آخری زمانے میں ھوگا لہذا اگر کچھ لوگ یہ مانتے ہیں کہ معصوم کا نزول یا ظہور ہوتا ہے تو انکو ماننا پڑے گا کہ *امام زمانہ ابھی پیدا نھیں ھوئے* *معصوم ع کی ولادت* ہی ہوتی ھے نزول و ظہور نھیں هوتا.
[1] (Sermon of Marifat-e-Noorania, Mashariq ul Anwar, also in, Nahjul Israr, vol. 1 (Urdu), pg. 87) مشارق أنوار اليقين في أسرار أمير المؤمنين عليه السلام، ص: 257 [2] Al-Kafi, Vol. 1, H. 509. [3] Abu Bakr and Umar [4] Al-Kafi, Vol. 1, H. 513 [5] Al-Kafi, Vol. 1, H. 514. الكافي ج : 1 ص : 196 [6] المناقب 2: 236. [7] (Sermon of Marifat-e-Noorania, Mashariq ul Anwar, also in, Nahjul Israr, vol. 1 (Urdu), pg.