1485) where Imam -asws says...
(see the rest of the Hadith in the ref. 15) چنانچہ ان تمام فرامین سے ثابت ہوا کہ عید الفطر کا دن مسرت اور انعامات کا دن ہے اور اس سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو بد نصیب ہواور پھر اگر عید جائز نہیں ہوتی تو پھر آئمہ ہمیں اعمال کیوں تعلیم فرماتے؟ اس کے علاوہ کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ابھی ۱۰ دن پہلے امام علی شہید ہوئے ہیں تو ہم کس طرح عید منایئں۔ تو ان کی خدمت میں چند باتیں حاضر ہیں: پهلی بات تو یه که عید کا کسی بھی حیثیت سے وه مفھوم نهین جو ھمارے دھوم دھڑکا کے عنوان سے ھمارے معاشرے مین رایج ھے مگر پھر بھی اگر صرف خوشی کے عنوان سے ھی دیکھا جاے تو امام العسکری ۸ ربیع الاول کو شھید ھوے اور جیسے ھی ۸ ربیع الاول کا سورج ڈہلتا ہے تمام شیعہ عید زھراء بڑے دھوم دھام سے مناتے ھیں امام الجواد ۲۹ ذلقعدہ کو شھید ھوے اور اگلے دن اگر ۱ ذلحجة ہوی تو ۲۹ ذلقعدہ کا سورج ڈہلتے ھی تمام شیعہ حضرت زھراء و امام علی کے عقد مبارک کی خوشیاں مناتے ھیں ۲۲ذلحجة کو حضرت مسلم کے فرزندان کی انتہای مظلومیت کے ساتھ شہادت ہوی مگر ۲۴ ذلحجة کی شب میں ہم عید مباہلہ مناتے ہیں اگر یہ بات ہے تو پھر عید زھراء، عید مباہلہ اور عقد حضرت زھراء و امام علی کا جشن بھی نہیں منانا چاہئے کیوں کہ اصول تو ایک جیسے ہونے چاہیں۔ نا کہ جہاں آپ کا دل چاہے وہاں اپنی مرضی کا اصول فٹ کر دیا۔ آخر میں ہم تمام عالم اسلام کو عید کی مبارک باد دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ مسلمانوں کی مدد فرمائے، انہیں عید آئمہ کی سیرت کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (سادگی و عبادات و فقرا و مساکین کی یاد کے ساتھ) اور ملت کو فتنہ بازوں اور گمراہ کرنے والوں کے شر سے محفوظ رکھے الہی آمین Written by XYZ and sent by.
شعيب نقوى , Slough, UK Appendix II: The Condition of Just Imam -asws for Eid Salat in Jamaat: صلاة العيدين The Salat of the two Eids وروي زرارة بن أعين عن أبى جعفر عليه السلام قال: ” لا صلاة يوم الفطر والاضحى مع إمام عادل Zrara Bin Ain narrates from Imam Abu Jafar -asws that Imam -asws says:” There are neither Salat on the Day of Al-Fitar nor on Al-Azha except in the presence of a Just Imam -asws .