[30] امام رضا فرماتے ہیں...
[30] امام رضا فرماتے ہیں: وفي العلل التي تروى عن الفضل بن شاذان النيسابوري رضي الله عنه ويذكر أنه سمعها من الرضا عليه السلام أنه ” إنما جعل يوم الفطر العيد ليكون للمسلمين مجتمعا يجتمعون فيه ، ويبرزون لله عز وجل ، فيمجدونه على ما من عليهم ، فيكون يوم عيد ، ويوم اجتماع ، ويوم فطر ، ويوم زكاة ، ويوم رغبة ، ويوم تضرع ، ولأنه أول يوم من السنة يحل فيه الأكل والشرب لان أول شهور السنة عند أهل الحق شهر رمضان فأحب الله عز وجل أن يكون لهم في ذلك مجمع يحمدونه فيه ويقدسونه وإنما جعل التكبير فيها أكثر منه في غيرها من الصلاة لان التكبير إنما هو تعظيم لله وتمجيد على ما هدى وعافا كما قال الله عز وجل : ” ولتكبروا الله على ما هداكم لعلكم تشكرون ” وإنما جعل فيها اثنتا عشرة تكبيرة لأنه يكون في [ كل ] ركعتين اثنتا عشرة تكبيرة ، وجعل سبع في الأولى وخمس في الثانية ولم يسو بينهما لان السنة في الصلاة الفريضة أن تستفتح بسبع تكبيرات فلذلك بدأ ههنا بسبع تكبيرات ، وجعل في الثانية خمس تكبيرات لان التحريم من التكبير في اليوم والليلة خمس تكبيرات وليكون التكبير في الركعتين جميعا وترا وترا یوم فطرکو یوم عید اس لئے قرار دیا گیا کہ اس میں مسلمانون کا اجتماع ہوتا ہے وہ مجتمع ہوتے ہیں اور خدا کی خوشنودی کے لئے نکلتے ہیں اور اللہ نے جو ان پر احسان کیا ہے اس پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں اس لئے یہ یوم عید یوم اجتماع یوم فطر، یوم زکاۃ، یوم رغبت اور یوم تضرع ہے نیز اس لئےکہ یہ سال کا پہلا دن ہے (رمضان کے بعد) جس میں کھانا پینا حلال ہے کیونکہ اہل حق کے نزدیک ایک سال کے مہینوں میں پہلا مہینہ ماہ رمضان ہے تو اللہ نے یہ چاہا کہ لوگوں کا مجمع ہو جس میں لوگ اس کی حمد کریں اور اس کی تقدیس کریں ، اور اس کے علاوہ اس میں دوسری نمازوں سے ذیادہ تکبیریں قرار دیں اس لئے کہ تکبیر اصل میں اللہ کی بڑائ کا اقرار ہے اور اس نے جو ہدایت کہ اس کا شکر ادا کرنا ہے۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ تا کہ خدا نے کو تم کو راہ پر لگا دیا ہے اس نعمت پر اس کی بڑائ بیان کرو تا کہ تم شکر گزار ہو(سورہ بقرہ ۱۸۵) ) من لا یحضرۃ الفقیہ، جلد۱، حدیث۱۴۸۵، صفحہ ۵۲۲( Again the author of the Urdu article against Aza-o-Matam on the Eid day is dishonest, as he did not, on purpose, when he translated the Arabic text, see the English translation of Hadith 1485 in ref.
15 (من لا يحضره الفقيه، ج1، ص: 522, H.
✦ ✦ ✦